کووڈ-19 ویکسین

کووڈ-19 ویکسین مفت ہے اور ترک وطن کی حیثیت سے بالاتر ہو کر 5 سال اور زائد عمر کے تمام افراد کے لئے دستیاب ہے۔

ہم آپ کو ضروری معلومات فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم آپ کو باخبر رکھیں گے تا کہ آپ اپنی صحت کے لئے معلومات پر مبنی فیصلہ لے سکیں۔

17 دسمر 2021 – Centers for Disease Control and Prevention (CDC، مراکز برائے امراض پر قابو اور انسداد) اور Washington State Department of Health (DOH، ریاست واشنگٹن محکمۂ صحت) کی تجویز ہے کہ 18 سال اور زائد عمر کے افراد Johnson & Johnson کووڈ-19 ویکسین کے بجائے mRNA کووڈ-19 ویکسین (Pfizer یا Moderna) کا انتخاب کریں، اس کی وجہ thrombosis with thrombocytopenia syndrome (TTS، تھرومبوسز کے ساتھ تھرومبوسائٹوپینیا سنڈروم)، نامی کیفیت کا نایاب خطرہ ہے جس میں خون کے لوتھڑے بن جاتے ہیں اور پلیٹ لیٹس کی تعداد گھٹ جاتی ہے، اور Guillain-Barré syndrome (GBS، گلیئن بیری سنڈروم)، کا نایاب خطرہ ہے جو کہ مدافعتی نظام کی بیماری ہے اور اعصاب کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اگر آپ
mRNA ویکسین نہیں لگوا سکتے یا نہیں لگوانا چاہتے تو Johnson & Johnson ویکسین اب بھی دستیاب ہے۔ براہ کرم اپنے آپشنز کے متعلق کسی طبی معالج سے بات کریں۔

کووڈ-19 ویکسین لگوانے کے لئے مجھے کیا کچھ معلوم ہونا چاہیے؟

میں ویکسین کیسے لگواؤں؟

اپائنٹمنٹ تلاش اور طے کرنے کے لئے ویکسین لوکیٹر ملاحظہ کریں۔

آپ اپنے نزدیک ویکسینیشن کے مقامات جاننے کے لئے 829-438 (GET VAX) پر اپنا زپ کوڈ بھی ٹیکسٹ کر سکتے ہیں۔

کیا آپ کووڈ-19 ویکسین کے متعلق سوالات کرنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ کو ویکسین کی اپائنٹمنٹ لینے میں مدد درکار ہے؟ کووڈ-19 کی معلوماتی ہاٹ لائن کو 0127-525-800-1 پر کال کریں، پھر # دبائیں۔ زبان کی معاونت دستیاب ہے۔

اگر آپ اپنی ویکسین (Spikevax/Moderna یا Pfizer/Comirnaty) کی دوسری خوراک کی اپائنٹمنٹ لے رہے ہیں تو آپ کو وہی ویکسین لگوانی چاہیے جو پہلی مرتبہ لگوائی تھی۔

اگر آپ یا آپ کے جاننے والوں میں سے کوئی گھر سے نکلنے سے قاصر ہیں تو ایک محفوظ آن لائن فارم (انگریزی) بھریں۔ آپ کے جوابات سے ہمیں افراد کو کاؤنٹی اور/یا ریاستی موبائل ویکسین ٹیموں سے ملانے میں مدد ملے گی۔

کووڈ-19 سے متعلق دیگر مسائل، جیسے وہائش، سہولیات میں معاونت، ہیلتھ انشورنس کے لئے 211 پر کال کریں یا wa211.org ملاحظہ کریں

مزید معلومات کے لئے، کووڈ-19 ویکسینز دیکھیے: معلوماتی حقائق کا صفحہ

کیا ویکسین لگوانے کے لئے میرا یو ایس کا شہری ہونا ضروری ہے؟

جی نہیں، ویکسین لگوانے کے لئے آپ کا یو ایس کا شہری ہونا ضروری نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ویکسین لگوانے کے لئے آپ کو سوشل سکیورٹی نمبر یا ترک وطن کی حیثیت ظاہر کرنے والی دیگر دستاویزات کی ضرورت نہیں۔ ممکن ہے کہ ویکسین کے چند فراہم کنندگان سوشل سکیورٹی نمبر پوچھیں، مگر آپ کے لئے بتانا ضروری نہیں ہے۔

ویکسین لگوانے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ آپ کا بچہ یو ایس شہری ہو۔ طبی معالج کسی کی ترک وطن کی حیثیت نہیں پوچھیں گے۔ اکثر حالات میں 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کو ویکسین لگانے کے لئے والدین اور سرپرستوں کی اجازت درکار ہو گی۔

Washington State Department of Health (محکمۂ صحت برائے ریاست واشنگٹن) کی تجویز ہے کہ 5 سال اور زائد عمر کے تمام افراد ویکسین لگوائیں۔

کیا مجھ سے ویکسین کی قیمت وصول کی جائے گی؟

جی نہیں۔ ویکسین لگوانے پر آپ سے کوئی پیسے نہیں لیے جانے چاہئیں، یا آپ کو معالج یا ویکسینیشن ادارے سے کوئی بل موصول نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جن کی نجی انشورنس ہے، Apple Health (Medicaid)، یا Medicare ہے، یا کوئی بیمہ نہیں ہے۔

اگر آپ ویکسین لگوانے جائیں اور اس دوران فراہم کنندہ سے کوئی اور خدمات وصول کریں تو آپ کو آفس آنے کا بل موصول ہو سکتا ہے۔ اس سے بچنے کے لئے آپ اپنے فراہم کنندہ سے پہلے ہی قیمت پوچھ سکتے ہیں۔

اگر آپ صحت کی انشورنس نہیں رکھتے تو فراہم کنندگان آپ سے ویکسین کی قیمت نہیں لے سکتے اور ممکن ہے کہ ایسا کرنے سے وہ کووڈ-19 ویکسین پروگرام کے تقاضوں کی خلاف ورزی کر رہے ہوں۔ اگر آپ سے پیسے لئے جائیں تو براہ کرم covid.vaccine@doh.wa.gov پر ای میل کریں۔

اگر آپ کی ہیلتھ انشورنس ہے اور آپ سے پیسے لیے گئے ہیں تو پہلے اپنے انشورنس پلان سے رابطہ کریں۔ اگر اس سے مسئلہ حل نہ ہو تو آپ بیمہ کمشنر کے دفتر میں شکایت درج کروا سکتے ہیں (انگریزی)۔

  • ٹیلیفون ترجمان کی خدمت کے لئے 800-562-6900 پر کال کریں (100 سے زائد زبانوں میں آپ کے لئے مفت دستیاب ہے)
  • TDD/TYY: 0241-586-360
  • TDD: 800-833-6384
اگر میری ہیلتھ انشورنس نہ ہو تو کیا ہو گا؟

اگر آپ کی انشورنس کوریج نہیں ہے تو اپنے معالج کو بتائیں۔ آپ کو پھر بھی مفت ویکسین لگے گی۔ وفاقی حکومت کا ایک پروگرام (انگریزی) موجود ہے جس کے ذریعے معالج کو آپ کی ویکسینیشن کی فیس ادا کی جائے گی۔

اگر ویکسین کے لئے مجھ سے پیسے نہیں لیے جائیں گے تو میری ہیلتھ انشورنس کی معلومات کیوں پوچھی جا رہی ہیں؟

جب آپ ویکسین لگوائیں گے تو ممکن ہے کہ آپ کو ویکسین لگانے والا شخص پوچھے کہ کیا آپ کے پاس انشورنس کارڈ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں آپ کو ویکسین لگانے کی قیمت مل سکے (ویکسین لگانے کی فیس)۔ اگر آپ کی انشورنس نہیں ہے تو اپنے معالج کو بتائیں۔ آپ پھر بھی مفت ویکسین لگوا سکیں گے۔

ویکسین لگانے کی فیس کیا ہے اور اسے کون ادا کرتا ہے؟

ویکسین لگانے کی فیس سے مراد وہ رقم ہے جو آپ کو ویکسین لگانے کے بدلے طبی معالج کو دی جاتی ہے۔ یہ ویکسین کی اپنی قیمت سے مختلف ہے۔

وفاقی حکومت ویکسین کی مکمل قیمت ادا کرتی ہے۔ اگر آپ کی سرکاری یا نجی ہیلتھ انشورنس ہے تو ممکن ہے کہ آپ کو ویکسین لگانے والا شخص ویکسین لگانے کی فیس حاصل کرنے کے لئے انہیں بل بھیج دے۔ اگر آپ کی انشورنس نہیں ہے تو وفاقی حکومت ایک پروگرام (انگریزی) پیش کرتی ہے جس کے ذریعے معالج کو آپ کی ویکسینیشن کی فیس ادا کی جائے گی۔

آپ کی جیب سے کوئی رقم خرچ نہیں ہونی چاہیے یا آپ کو اپنے معالج کی جانب سے کووڈ-19 ویکسین لگانے کی فیس کا بل موصول نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جن کی نجی انشورنس ہے، Apple Health (Medicaid)، یا Medicare ہے، یا کوئی بیمہ نہیں ہے۔

فی الحال کون سی کووڈ-19 ویکسینز دستیاب ہیں؟

U.S. Food and Drug Administration (FDA، یو ایس انتظامیہ برائے خوراک و منشیات) نے تین ویکسینز کی ہنگامی استعمال کے لئے اجازت دی ہے یا انہیں مکمل طور پر منظور کیا ہے۔ فی الحال ریاست Washington میں یہ ویکسینز پیش کی جا رہی ہیں۔ Johnson & Johnson ویکسین کے بجائے Pfizer (Comirnaty) اور (Spikevax) Moderna ویکسینز کی تجویز دی جاتی ہے، جس کی وجہ thrombosis with thrombocytopenia syndrome (TTS، تھرومبوسز کے ساتھ تھرومبوسائٹوپینیا سنڈروم) اور
Guillain-Barré syndrome (GBS، گلیئن بیری سنڈروم) نامی کیفیات کا نایاب خطرہ ہے ۔

Pfizer-BioNTech کووڈ-19 ویکسین (Comirnaty):

یہ دو خوراکوں والی ویکسین ہے، جنہیں 21 دن کے فاصلے سے دیا جاتا ہے، اور:

  • کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد کے لئے اضافی (تیسری) خوراک
  • 12 سال اور زائد عمر کے افراد کے لئے دوسری خوراک کے کم از کم 5 ماہ بعد ایک بوسٹر خوراک

دوسری خوراک لینے کے تقریباً دو ہفتے بعد تک آپ کو مکمل طور پر محفوظ تصور نہیں کیا جاتا۔ اس Comirnaty نامی ویکسین کو 16 سال اور زائد عمر کے افراد کے لئے مکمل طور پر منظور کیا گیا ہے۔ 5 سے 15 سال کے بچوں میں ہنگامی استعمال کے لئے اس ویکسین کی اجازت دی گئی ہے۔ کلینکل ٹرائلز میں کوئی بڑے غیر متوقع خراب حالات ظاہر نہیں ہوئے۔

Moderna کووڈ-19 ویکسین (Spikevax):

یہ دو خوراکوں والی ویکسین ہے، جنہیں 28 دن کے فاصلے سے دیا جاتا ہے، اور:

  • کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد کے لئے اضافی (تیسری) خوراک
  • 18 سال اور زائد عمر کے افراد کے لئے دوسری خوراک کے کم از کم 5 ماہ بعد ایک بوسٹر خوراک

دوسری خوراک لینے کے تقریباً دو ہفتے بعد تک آپ کو مکمل طور پر محفوظ تصور نہیں کیا جاتا۔ کلینکل ٹرائلز میں کوئی بڑے غیر متوقع خراب حالات ظاہر نہیں ہوئے۔ 

Johnson & Johnson – Janssen کووڈ-19 ویکسین:

18 سالہ یا اس سے زائد عمر کے افراد پر ہنگامی استعمال کے لئے اس ویکسین کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ واحد خوراک (ایک ٹیکہ) والی ویکسین ہے۔ ویکسین لگوانے کے ایک سے دو ہفتے بعد تک آپ کو مکمل طور پر محفوظ تصور نہیں کیا جاتا۔ 18 سال اور زائد عمر کے افراد کو پہلی خوراک کے دو یا زائد ماہ بعد بوسٹر خوراک لگوانی چاہیے۔ کلینکل ٹرائلز میں کوئی بڑے غیر متوقع خراب حالات ظاہر نہیں ہوئے۔ Johnson & Johnson ویکسین کے بجائے Pfizer اور Moderna ویکسینز کی تجویز دی جاتی ہے۔

کیا کووڈ-19 ویکسین کی تمام خوراکیں لگوانا ضروری ہے؟

اکثر افراد کے لئے Comirnaty/Pfizer اور Spikevax/Moderna ویکسنیز کی دو خوراکیں ہوتی ہیں۔ وائرس سے سامنا ہونے کے زیادہ خطرے میں مبتلا افراد یا وہ جو ویکسین پر اچھا ردعمل نہ دیں، انہیں تین یا چار خوراکوں کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اگر آپ Comirnaty/Pfizer یا Spikevax/Moderna ویکسین لگوائیں تو آپ کو کووڈ-19 کے خلاف زیادہ سے زیادہ تحفظ کے حصول کے لئے اپنے خطرے اور مدافعتی نظام کے درجے کی بنیاد پر تمام مجوزہ خوراکیں لگوانی ہوں گی۔

Johnson & Johnson-Janssen کووڈ-19 ویکسین واحد خوراک والی ویکسین ہے، اور 18 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کے لئے کم از کم دو ماہ بعد بوسٹر خوراک تجویز کی جاتی ہے۔

اگر مجھے دوسری خوراک لگوانے میں دیر ہو جائے تو کیا مجھے دوبارہ پہلی ویکسین سے شروع کرنا ہو گا؟

جی نہیں۔ اگر آپ کو دوسری خوراک لگوانے میں دیر ہو جائے تو آپ کو دوبارہ پہلی ویکسین سے شروع کرنے کی ضرورت نہیں۔

پہلی خوراک کے بعد دنوں کی مجوزہ تعداد گزرنے کے بعد جلد از جلد دوسری خوراک لگوائیں (Comirnaty/Pfizer کے لئے 21 دن، Spikevax/Moderna کے لئے 28 دن)۔

دونوں خوراکیں لگوانا اہم ہے، خواہ آپ کو دوسری خوراک لگوانے میں کتنی ہی دیر کیوں نہ ہو جائے۔

اگر آپ کمزور مدافعتی نظام کے حامل ہیں اور اضافی خوراک کے اہل ہیں تو آپ کو دوسری خوراک کے بعد کم از کم 28 دن تک انتظار کرنا چاہیے۔

اگر میں حاملہ ہوں، دودھ پلا رہی ہوں یا حاملہ ہونے کا ارادہ رکھتی ہوں تو کیا میں کووڈ-19 ویکسین لگوا سکتی ہوں؟

جی ہاں، ڈیٹا سے ظاہر ہوا ہے کہ حمل کے دوران کووڈ-19 ویکسینز محفوظ ہیں۔Centers for Disease Control and Prevention (مراکز برائے امراض پر قابو اور انسداد، CDC)، American College of Obstetricians and Gynecologists (امریکی کالج برائے ماہرین وضع حمل اور ماہرین امراض نسواں، ACOG) اور Society for Maternal-Fetal Medicine (ماں اور بچے کی طب کی سوسائٹی، SMFM) (صرف انگریزی) نے حاملہ، دودھ پلانے والی یا حاملہ ہونے کا ارادہ رکھنے والی خواتین کے لئے کووڈ-19 ویکسین کی تجویز دی ہے۔ چند مطالعوں سے ظاہر ہوا ہے کہ اگر آپ ویکسین لگوا لیں تو ممکن ہے کہ حمل اور دودھ پلانے کے عمل کے ذریعے آپ کا بچہ کووڈ-19 کے خلاف اینٹی باڈیز حاصل کر لے۔ کووڈ-19 میں مبتلا ہونے والی غیر ویکسین یافتہ خواتین میں قبل از وقت پیدائش یا مردہ بچہ پیدا ہونے جیسی شدید پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ حاملہ ہوتے ہوئے کووڈ-19 میں مبتلا ہونے والی خواتین کو ایڈوانسڈ لائف سپورٹ اور تنفسی ٹیوب کی ضرورت پڑنے کا امکان دو سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔

اگر آپ حمل کے دوران کووڈ-19 ویکسین لگوانے کے متعلق کسی سے بات کرنا چاہتے ہیں تو براہ کرم MotherToBaby سے رابطہ کریں۔ MotherToBaby کے ماہرین فون یا چیٹ پر انگریزی یا ہسپانوی زبان میں سوالات کے جوابات دینے کے لئے دستیاب ہیں۔ یہ مفت اور خفیہ سروس پیر تا جمعہ صبح 8 تا شام 5 بجے (مقامی وقت) دستیاب ہے۔ MotherToBaby سے رابطہ کرنے کے لئے:

کیا میں معمول کی ویکسینیشن کرواتے ہوئے کووڈ-19 ویکسین لگوا سکتا/سکتی ہوں؟

جی ہاں۔ 12 مئی 2021 کو Advisory Committee on Immunization Practices (ACIP ،مامونیت کے طریقہ کار کی مشاورتی کمیٹی) نے اپنی تجاویز تبدیل کر دیں۔ اب آپ دوسری ویکسینز کے ساتھ ہی کووڈ-19 ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

آپ کو اپنے بچے کی اسکول کے لئے ضروری ویکسینیشنز (صرف انگریزی) یا دیگر مجوزہ ویکسینز کے لئے کووڈ-19 ویکسینیشن سے علیحدہ وقت طے کرنے کی ضرورت نہیں۔ کووڈ-19 ویکسین کی اپائنٹمنٹ اپنے بچے کی تمام مجوزہ ویکسینز پوری کروانے کا ایک اور موقع ہے۔

ویکسینیشن ریکارڈ کارڈ کیا ہے؟

جب آپ کووڈ-19 ویکسین کی پہلی خوراک لگوائیں گے تو آپ کو کاغذی ویکسینیشن کارڈ دیا جائے گا۔ اس کارڈ سے آپ کو معلوم ہو گا کہ آپ نے کس تاریخ کو اور کس قسم کی (Comirnaty/Pfizer-BioNTech، Spikevax/Moderna یا Johnson & Johnson) ویکسین لگوائی ہے۔

اگر آپ نے ویکسین Comirnaty/Pfizer-BioNTech یا Spikevax/Moderna ویکسین لگوائی ہے تو جب آپ پہلی خوراک کے لئے آئیں گے، تبھی آپ کے معالج کو دوسری خوراک کے لئے آپ کی اپائنٹمنٹ بک کرنی چاہیے۔ یہ کارڈ اپنے پاس رکھیں تاکہ آپ کی دوسری خوراک کے بعد آپ کو ویکسین لگانے والا شخص اسے مکمل کر سکے۔

اگر آپ اضافی خوراک یا بوسٹر خوراک لگوائیں تو آپ کو اپنی اپائنٹمنٹ میں ویکسینیشن ریکارڈ کارڈ ساتھ لے کر جانا چاہیے۔ آپ کو ویکسین لگانے والا شخص خوراک ریکارڈ کرے گا۔

اپنے ویکسینیشن کارڈ کے متعلق درج ذیل مددگار تجاویز کو ذہن میں رکھیں:

  • خوراکوں کے درمیان اور ان کے بعد اپنا ویکسینیشن کارڈ اپنے پاس رکھیں۔
  • کارڈ کے اگلے اور پچھلے حصے کی تصاویر لیں تاکہ ایک ڈیجیٹل نقل ہمہ وقت آپ کی دسترس میں ہو۔
  • اسے خود کو ای میل کرنے، البم بنانے یا تصویر پر ٹیگ لگانے پر غور کریں، تاکہ آپ کو یہ دوبارہ آسانی سے مل جائے۔
  • اگر آپ اپنے ساتھ فوٹوکاپی رکھنا چاہتے ہیں تو ضرور فوٹوکاپی کروائیں۔

اگر آپ اپائنٹمنٹ پر اپنا ویکسینیشن کارڈ نہ لائیں، تو بھی آپ دوسری خوراک لگوا سکتے ہیں۔ اپنے معالج سے کہیں کہ آپ نے پہلی خوراک کے دوران ویکسین کی جو قسم (برانڈ) لگوائی تھی، اسے نیٹ پر تلاش کریں تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ آپ کو دوبارہ اسی قسم کی ویکسین لگے۔ اگر آپ کا ویکسینیشن کارڈ کھو جائے تو اپنی کووڈ-19 ویکسینیشن کا ریکارڈ تلاش کرنے کے لئے MyIR میں لاگ ان کریں My Immunization Registry) (میری مامونیت کی رجسٹری)) (صرف انگریزی) اور پھر معلومات کا اسکرین شاٹ یا تصویر لیں۔ اگر آپ کا اکاؤنٹ نہیں ہے تو آپ کسی بھی وقت MyIR میں سائن اپ کر سکتے ہیں۔

براہ کرم یاد رکھیں کہ ممکن ہے کہ MyIR کے ذریعے آپ کے ریکارڈز کی فوری تصدیق نہ ہو اور فی الحال رسائی انگریزی زبان تک محدود ہے۔ MyIRmobile یا ویکسینیشن کے ریکارڈ کے سوالات کے متعلق مدد کے لئے براہ راست ٹیلیفون معاونت دستیاب ہے، اس کے لئے Department of Health COVID-19 (محکمۂ صحت کی کووڈ-19) ہاٹ لائن کو 833-VAX-HELP پر کال کریں یا waiisrecords@doh.wa.gov پر ای میل کے ذریعے رابطہ کریں۔

حفاظت اور افادیت

مجھے کووڈ-19 ویکسین کیوں لگوانی چاہیے؟

کووڈ-19 ویکسین لگوانا آپ کا اپنا فیصلہ ہے، لیکن اس وبا کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد ویکسین لگوائیں۔ جب کمیونٹی کے افراد ویکسینیشن یا حالیہ انفیکشن کے ذریعے کووڈ-19 وائرس کے خلاف مدافعت پیدا کر لیں تو اس کا پھیلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ویکسینیشن کی شرح جتنی بڑھے گی، انفیکشن کی شرح اتنی گھٹے گی۔

کووڈ-19 ویکسینز کئی طریقوں سے آپ کی حفاظت کر سکتی ہیں:

  • یہ کووڈ-19 کی روک تھام کا کام اچھی طرح کرتی ہیں
  • یہ کووڈ-19 لگنے کی صورت میں آپ کے شدید بیمار ہونے کا خطرہ بڑی حد تک گھٹا دیتی ہیں
  • مکمل ویکسین لگوانے سے آپ کے کووڈ-19 سے ہسپتال میں داخل ہونے کے امکانات اور موت کا خطرہ گھٹ جاتا ہے
  • ویکسینیشن سے کمیونٹی میں محفوظ افراد کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور مرض پھیلنا مشکل ہو جاتا ہے
  • ماہرین لوگوں کو دوسروں میں وائرس پھیلانے سے روکنے کے متعلق ویکسین کی اہلیت پر مطالعہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مکمل ویکسین لگوانے کے بعد بھی کووڈ-19 لگنا ممکن ہے مگر ویکسین نہ لگوانے کی نسبت اس کا امکان انتہائی کم ہے۔ کلینکل ٹرائلز میں ہر ویکسین کووڈ-19 کے باعث شدید بیماری سے بچاؤ میں کم از کم 85 فیصد مؤثر رہی۔ ویکسینز نے کئی افراد میں کووڈ-19 کی کوئی بھی علامت ظاہر نہ ہونے دی:

  • Johnson & Johnson (Janssen)، 74 فیصد
  • Pfizer-BioNTech، 95 فیصد
  • Moderna، 94 فیصد

غیر ویکسین یافتہ افراد کو وائرس لگ سکتا ہے اور وہ اسے دوسروں میں پھیلا سکتے ہیں۔ کچھ لوگ طبی وجوہات کی بناء پر کووڈ-19 ویکسین نہیں لگوا سکتے۔ اگر آپ نے ویکسین نہیں لگوائی تو آپ کے کووڈ-19 کی دوسری شکل (انگریزی) کے باعث ہسپتال میں داخلے اور موت کا خطرہ بھی زیادہ ہے۔ ویکسین لگوانے سے آپ کو اپنی فیملی، ہمسایوں اور کمیونٹی کو محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

اگر زیادہ تر افراد بیماری کے بعد ٹھیک ہو جاتے ہیں تو مجھے کووڈ-19 ویکسین کیوں لگوانی چاہیے؟

کووڈ-19 کا واحد رسک موت نہیں ہے۔ کووڈ-19 میں مبتلا ہونے والے اکثر افراد میں تھوڑی بہت علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ تاہم اس وائرس کے متعلق اندازے لگانا ناممکن ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ کووڈ-19 کی چند اشکال (انگریزی) میں شدید بیماری کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ کچھ افراد کووڈ-19 سے شدید بیمار ہو سکتے ہیں یا وفات پا سکتے ہیں، یہاں تک کہ دائمی طبی کیفیات سے پاک نوجوان افراد بھی۔ دیگر افراد، جنہیں "طویل مدتی کووڈ مریض" کہا جاتا ہے، میں ایسی علامات پیدا ہو جاتی ہیں جو کئی ماہ تک جاری رہتی ہیں اور ان کے معیار زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ہمیں ابھی تک کووڈ-19 کے تمام طویل مدتی اثرات بھی معلوم نہیں کیوں کہ یہ ایک نیا وائرس ہے۔ ویکسین لگوانا وائرس سے بچاؤ کا بہترین حل ہے۔ خواہ آپ جوان اور صحت مند ہوں، آپ کو کووڈ-19 ویکسین لگوانی چاہیے۔

کووڈ-19 کی متغیر شکل کیا ہے؟

جب وائرس ایک شخص سے دوسرے میں پھیلتے ہیں تو اپنی ہئیت تبدیل کر لیتے ہیں۔ وائرس کی تبدیل شدہ ہئیت کو متغیر شکل کہتے ہیں۔ چب متغیر اشکال وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتی ہیں اور چند کمیونٹی میں پھیلاؤ جاری رکھتی ہیں۔

Centers for Disease Control and Prevention (مراکز برائے امراض پر قابو اور انسداد، CDC) (صرف انگریزی) تشویشناک متغیر اشکال کی نشاندہی کی ہے۔ فی الحال کئی متغیر اشکال تشویشناک ہیں کیوں کہ وہ تیزی سے اور مزید آسانی سے پھیلتی ہیں اور مزید کووڈ-19 انفیکشنز کا باعث بنتی ہیں۔

کیا کووڈ-19 ویکسین متغیر اشکال کے خلاف کارآمد ہے؟

ویکسین لگوانے سے آپ کو وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار گھٹانے میں اور متغیر اشکال کی منتقلی کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ آپ کو وائرس کی تمام معلوم متغیر اشکال کے باعث ہسپتال میں داخلے اور موت کے خلاف مضبوط تحفظ بھی فراہم کرتی ہے۔

چند ویکسین یافتہ افراد پھر بھی متغیر شکل سے متاثر ہو سکتے ہیں لیکن تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ ان میں ہلکی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ اگر آپ دو خوراکوں والی ویکسین لگوائیں تو متغیر اشکال کے خلاف زیادہ سے زیادہ تحفظ کے حصول کے لئے دونوں خوراکیں لگوانا ضروری ہے۔

ویکسینیشن آپ کو، آپ کے پیاروں کو اور آپ کی کمیونٹی کو محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔ بڑے پیمانے پر ویکسینیشن ہونے سے وائرس کا پھیلاؤ گھٹے گا اور وائرس کی نئی متغیر اشکال ابھرنے کے عمل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

ہمیں کیسے معلوم ہو گا کہ ویکسینز محفوظ ہیں؟

کووڈ-19 ویکسینز کی تیاری کے لئے سائنس دان ایک دہائی پر مشتمل ویکسین سائنس استعمال کر رہے ہیں۔ چونکہ ہم ایک عالمی وبا میں جی رہے ہیں، نئی ویکسین کی تیاری کا عمل نسبتاً تیز ہو سکتا ہے۔ کوئی اقدامات نظر انداز نہیں کیے گئے، مگر کچھ اقدامات بیک وقت لیے جا رہے ہیں، جیسے اطلاق، ٹیسٹ اور تیاری۔

ہر امیدوار ویکسین کئی کلینکل ٹرائلز سے گزرتی ہے۔ پہلے رضاکاروں کے ایک چھوٹے سے گروہ سے، پھر چند سو رضاکاروں اور پھر ہزاروں رضاکاروں سے۔ کلینکل ٹرائلز کے بعد طبی ماہرین نتائج اور ضمنی اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اگر ویکسین کارآمد اور محفوظ ہو تو اسے عوام تک پہنچانے کی منظوری دی جاتی ہے۔

  • 2020 میں Food and Drug Administration (انتظامیہ برائے خوراک و منشیات،FDA)نے کلینکل ٹرائلز کے ڈیٹا کا جائزہ لے کر Pfizer، Moderna اور Johnson & Johnson کووڈ-19 ویکسینز کو Emergency use authorization (EUA، ہنگامی استعمال کی اجازت) عطا کیا۔ کلینکل ٹرائلز کے حصے کے طور پر محققین نے یو ایس اور دیگر ممالک سے تحفظ اور افادیت کا ڈیٹا اکٹھا کیا۔ تین دستیاب ویکسینز کے کلینکل ٹرائلز میں کل 115,000 سے زائد رضاکاران سے شرکت کی۔ انہیں کوئی سنگین حفاظتی خدشات نہیں ملے۔ تب سے یو ایس آبادی کی اکثریت یعنی لاکھوں افراد کو بحفاظت یہ ویکسینز دی جا چکی ہیں۔
  • 2021 میں FDA نے Pfizer-BioNTech ویکسین کو 16 سالہ اور زائد عمر کے افراد کے لئے مکمل طور پر منظور کیا اور اسے Comirnaty کا نام دیا۔ FDA نے 12,000 سے زائد ویکسین یافتہ افراد کا ڈیٹا چیک کر کے ویکسین کی افادیت اور تحفظ کا تجزیہ کیا۔ FDA نے ویکسین لگوانے والے 22,000 افراد اور پلیسبو لگوانے والے 22,000 افراد کے حفاظتی ڈیٹا کا بھی جائزہ لیا۔
  • دسمبر 2021 میں Centers for Disease Control and Prevention (CDC، مراکز برائے امراض پر قابو اور انسداد)  نے تجویز دی کہ افراد Johnson & Johnson کووڈ-19 ویکسین کے بجائے mRNA کووڈ-19 ویکسین (Pfizer یا Moderna) کا انتخاب کریں، اس کی وجہ thrombosis with thrombocytopenia syndrome (TTS، تھرومبوسز کے ساتھ تھرومبوسائٹوپینیا سنڈروم)، کا نایاب خطرہ ہے جس میں خون کے لوتھڑے بن جاتے ہیں اور پلیٹ لیٹس کی تعداد گھٹ جاتی ہے، اور Guillain-Barré syndrome (GBS، گلیئن بیری سنڈروم)، کا نایاب خطرہ ہے، جو کہ مدافعتی نظام کی بیماری ہے اور اعصاب کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اگر آپ mRNA ویکسین نہیں لگوا سکتے یا نہیں لگوانا چاہتے تو آپ
  • Johnson & Johnson ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ کسی معالج سے اپنے اختیارات کے بارے میں بات کریں۔
  • FDA اور CDC ویکسینز سے متعلقہ ممکنہ برے واقعات کی اطلاعات کی مسلسل نگرانی اور تفتیش کر رہے ہیں۔
  • ویکسین کے تحفظ کے متعلق مزید معلومات کے لئے دیکھیے کووڈ-19 ویکسین کا تحفظ: کیا کچھ معلوم ہونا چاہیے (PDF)

Johnson & Johnson ویکسین کا کیا معاملہ ہے؟

دسمبر 2021 سے Washington State Department of Health (DOH، ریاست واشنگٹن محکمۂ صحت) کی تجویز ہے کہ آپ ایک خوراک والی ویکسین Johnson & Johnson (J&J) کے بجائے mRNA کووڈ-19 ویکسین (Pfizer-BioNTech یا Moderna) لگوانے کا فیصلہ کریں۔

J&J کی ویکسین لگوانے کے بعد دو نایاب کیفیات کا نیا ڈیٹا پیش کیے جانے کے بعد Centers for Disease Control and Prevention (CDC، مراکز برائے امراض پر قابو اور انسداد) کی جانب سے نئی رہنمائی کے مطابق یہ ترمیم کی گئی۔

  • Thrombosis and thrombocytopenia syndrome (TTS):Thrombosis with thrombocytopenia syndrome (TTS، تھرومبوسز کے ساتھ تھرومبوسائٹوپینیا سنڈروم) ایک نایاب لیکن سنگین کیفیت ہے جس میں خون کے لوتھڑے بن جاتے ہیں اور پلیٹ لیٹس کی تعداد گھٹ جاتی ہے، جسے J&J ویکسین لگوانے والے کچھ افراد میں پایا گیا۔ تاہم خطرہ نایاب ہے۔ ریاست ہائے متحدہ میں ویکسین کی 14 ملین خوراکوں میں TTS کے 54 کیسز پائے گئے۔
  • Guillain-Barré Syndrome (GBS): Guillain-Barré syndrome (GBS، گلیئن بیری سنڈروم)، ایک اعصابی بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام اعصابی خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے، جس سے پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں اور کبھی کبھار یہ فالج کا باعث بنتا ہے۔ GBS کا خطرہ بھی انتہائی نایاب ہے۔ جولائی 2021 میں J&J ویکسین کی دی گئی تقریباً 12.5 ملین خوراکوں کے بعد GBS کی 100 ابتدائی اطلاعات موصول ہوئیں۔

یہ کیفیات صرف J&J کووڈ-19 ویکسین سے منسلک ہیں، Pfizer یا Moderna ویکسینز سے نہیں۔ جو لوگ ابھی کووڈ-19 ویکسینز لگوا رہے ہیں، ان کے لئے DOH Moderna اور Pfizer ویکسینز کی تجویز دیتا ہے۔ تاہم اگر آپ ان ویکسینز میں سے کوئی نہ لگوانا چاہیں یا نہ لگوا سکیں تو J&J ویکسین ابھی بھی دستیاب ہے۔  براہ کرم اپنے اختیارات کے بارے میں بات کرنے کے لئے کسی طبی معالج سے رابطہ کریں۔

اگر آپ نے گزشتہ تین ہفتوں میں J&J کووڈ-19 ویکسین لگوائی ہے یا J&J کووڈ-19 ویکسین لگوانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو TTS سے پیدا ہونے والے ایک قسم کے خون کے لوتھڑے کی انتباہی علامات جان لیں۔ ان میں شدید سر درد، پیٹ کا درد، ٹانگ کا درد اور/یا سانس کی تنگی شامل ہیں۔ اگر آپ یہ علامات محسوس کریں تو براہ کرم فوری طور پر طبی توجہ حاصل کریں۔

کوئی بھی کووڈ-19 ویکسین لگوانے کے بعد پہلے ہفتے میں ہلکی تا معتدل علامات پیش آنا نارمل ہے، بشمول بخار، سر درد، تھکاوٹ، جوڑوں/پٹھوں میں درد۔ یہ ضمنی اثرات عموماً ویکسین لگوانے کے تین دن کے اندر اندر ظاہر ہوتے ہیں اور چند دن میں ختم ہو جاتے ہیں۔

ویکسین کو FDA منظوری حاصل ہونے کا کیا مطلب ہے؟

مکمل منظوری کے لئے FDA ہنگامی استعمال کی اجازت کی نسبت لمبی مدت تک ڈیٹا کا جائزہ لیتی ہے۔ ویکسین کو مکمل منظوری دینے کے لئے ضروری ہے کہ ڈیٹا میں تحفظ، افادیت اور ویکسین کی تیاری میں کوالٹی کنٹرول کا اعلی سطح ظاہر ہو۔

EUA کے ذریعے FDA کسی پراڈکٹ کو مکمل لائسنس دینے سے پہلے اسے اعلان کی گئی ہنگامی صورتحال کے دوران دستیاب کر دیتی ہے۔ EUA کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ لوگ ڈیٹا کے طویل مدتی تجزیے سے قبل جان بچانے والی ویکسینز لگوا سکیں۔ تاہم EUA کے لئے بھی کلینکل ڈیٹا کا جامع جائزہ درکار ہوتا ہے، بس اس کے لئے وقت کا دورانیہ کام ہوتا ہے۔ FDA کی جانب سے دیے گئے ہر EUA کا Scientific Safety Review Workgroup (سائنسی تحفظ کے نظر ثانی کے ورک گروپ) کی جانب سے مزید تجزیہ کیا جاتا ہے، جو کہ Western States Pact (مغربی ریاستوں کا معاہدہ) (صرف انگریزی) کا حصہ ہے۔

Western States Pact کیا ہے؟

اکتوبر 2020 میں واشنگٹن نے آریگان، نیواڈا، کولاراڈو اور کیلیفورنیا کے ساتھ مل کر مغربی ریاستوں کا سائنسی تحفظ کا نظر ثانی کا ورک گروپ (مغربی ریاستوں کا معاہدہ) تشکیل دیا تاکہ FDA کی جانب سے کووڈ-19 ویکسینز کی اجازت ملنے کے بعد ان کے تحفظ اور افادیت پر نظر ثانی کی جا سکے۔ یہ ورک گروپ ویکسین کے تحفظ کے لئے ماہرین کے جائزے کی ایک اور تہہ فراہم کرتا ہے۔

پینل میں تمام رکن ریاستوں کے ماہرین اور قومی سطح پر مانے جانے والے سائنس دان شامل ہیں جو مامونیت اور صحت عامہ کا تجربہ رکھتے ہیں۔ جب FDA ہنگامی استعمال کے لئے کسی ویکسین کی منظوری دیتی ہے تو پینل عوامی سطح پر دستیاب تمام ڈیٹا کے ساتھ ساتھ وفاقی جائزے پر نظر ثانی کرتا ہے اور ایک رپورٹ پیش کرتا ہے۔ فی الحال ریاست واشنگٹن میں دستیاب تین ویکسینز کے لئے یہ عمل کیا گیا اور مستقبل میں Emergency Use Authorization (EUA) دی جانے والی تمام کووڈ-19 ویکسینز کے لئے انجام دیا جائے گا۔ Western States Scientific Safety Review Workgroup کی تحقیقات پڑھیں:

کووڈ-19 ویکسین میرے جسم میں کس طرح کام کرے گی؟

یہ ویڈیو دیکھیے جس میں بتایا گیا ہے کہ ویکسینز آپ کے جسم میں کیسے کام کرتی ہیں۔

mRNA ویکسینز (Pfizer اور Moderna کووڈ-19 ویکسینز)

دو دستیاب ویکسینز کو RNA (mRNA) ویکسینز کہا جاتا ہے۔

mRNA ویکسینیں آپ کے سیلز کو کوروناوائرس اسپائک پروٹین کا ایک بےضرر ٹکڑا بنانا سکھاتی ہیں۔ آپ کا مدافعتی نظام دیکھتا ہے کہ پروٹین اس کا حصہ نہیں، اور آپ کا جسم اینٹی باڈیز بنانے لگتا ہے۔ مستقبل میں اگر آپ کو انفیکشن ہو جائے تو ان اینٹی باڈیز کو یاد رہتا ہے کہ کووڈ-19 سے کیسے لڑنا ہے۔ جب آپ ویکسین لگواتے ہیں تو آپ بیمار ہوئے بغیر کووڈ-19 کے خلاف مدافعت حاصل کر لیتے ہیں۔ کام مکمل کرنے کے بعد mRNA تیزی سے ٹوٹ جاتا ہے اور جسم چںد دنوں میں اسے صاف کر دیتا ہے۔

وائرل ویکٹر ویکسینز (Johnson & Johnson کووڈ-19 ویکسین)

ایک کووڈ-19 ویکسین کو وائرل ویکٹر ویکسین کہتے ہیں۔

ویکٹر ویکسینیں وائرس کی ایک کمزور شکل سے بنائی جاتی ہیں (یہ کووڈ-19 پیدا کرنے والے وائرس سے مختلف ہے)۔ یہ ویکسینیں آپ کے سیلز کو کوروناوائرس کا ایک بےضرر اسپائک پروٹین بنانا سکھاتی ہیں۔ آپ کا مدافعتی نظام دیکھتا ہے کہ پروٹین اس کا حصہ نہیں، اور آپ کا جسم اینٹی باڈیز بنانے لگتا ہے۔ آپ کا جسم سیکھ لیتا ہے کہ مستقبل میں اگر آپ کو انفیکشن ہو جائے تو بیمار ہوئے بغیر کووڈ-19 سے کیسے لڑنا ہے۔

ہمارے پاس موجود ویکٹر ویکسین کی ایک خوراک دی جاتی ہے۔ عام طور پر آپ کی دوسری خوراک کے تقریباً دو ہفتے بعد زیادہ سے زیادہ تحفظ کا حصول ممکن ہوتا ہے۔

کبھی کبھار ویکسین سے ہلکا بخار یا زکام کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، مگر یہ نقصان دہ نہیں ہوتیں۔

مزید معلومات کے لئے یہ وسائل دیکھیں: کووڈ-19 ویکسینز کی تصویر اور کووڈ-19 ویکسینز: اہم معلومات۔

اگر کمیونٹی کے زیادہ سے زیادہ افراد وائرس کو مار بھگائیں تو اس کے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں بچے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم پھیلاؤ کو جلد روک سکتے ہیں اور اس وبا کے اختتام کی جانب قدم بڑھا سکتے ہیں۔

کووڈ-19 ویکسینز کیسے بنائی جاتی ہیں؟

اس مختصر ویڈیو میں وضاحت کی گئی ہے کہ کووڈ ویکسینز کیسے بنائی جاتی ہیں(انگریزی)۔

mRNA ویکسین کیا ہے؟

میسنجر RNA یا mRNA ایک نئی قسم کی ویکسین ہے۔ mRNA ویکسینز آپ کے سیلز کو "اسپائک پروٹین" کا ایک بےضرر ٹکڑا بنانا سکھاتی ہیں۔ یہ اسپائک پروٹین وہی ہے جو آپ کو کوروناوائرس کی سطح پر نظر آتا ہے۔ آپ کا مدافعتی نظام دیکھے گا کہ پروٹین جسم کا حصہ نہیں اور آپ کا جسم مدافعتی ردعمل کی تیاری شروع کر دے گا اور اینٹی باڈیز بنائے گا۔ جب ہمیں "قدرتی طور پر" کووڈ-19 انفیکشن ہوتا ہے تو بھی ایسی ہی صورتحال ہوتی ہے۔ کام مکمل کرنے کے بعد mRNA تیزی سے ٹوٹ جاتا ہے اور جسم چںد دنوں میں اسے صاف کر دیتا ہے۔

اگرچہ ہم نے ماضی میں دیگر اقسام کی طبی اور جانوروں کی صحت کی نگہداشت میں mRNA کو استعمال کیا ہے، اس طریقے سے ویکسینز تیار کرنا سائنس میں ایک بڑی پیشرفت ہے اور اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں مزید آسانی سے ویکسینز بنائی جا سکیں گی۔

آپ CDC کی ویب سائٹ پر اس متعلق مزید پڑھ سکتے ہیں کہ mRNA ویکسینز کیسے کام کرتی ہیں(انگریزی)۔

وائرل ویکٹر ویکسین کیا ہے؟

اس قسم کی ویکسین میں ایک مختلف وائرس ("ویکٹر) کا کمزور ورژن استعمال کیا جاتا ہے جو آپ کے سیلز کو ہدایات دیتا ہے۔ ویکٹر ایک سیل میں داخل ہوتا ہے اور اس سیل کی مشنیری استعمال کرتے ہوئے کووڈ-19 اسپائک پروٹین کا ایک بےضرر ٹکڑا تیار کرتا ہے۔ سیل کی سطح پر اسپائک پروٹین ظاہر ہوتا ہے اور آپ کا مدافعتی نظام دیکھ لیتا ہے کہ یہ جسم کا حصہ نہیں۔ آپ کا مدافعتی نظام اینٹی باڈیز بنانا شروع کر دے گا اور دیگر مدافعتی سیلز کو اپنے خیال میں انفیکشن سے لڑنے کے لئے چالو کر دے گا۔ آپ کا جسم سیکھ لیتا ہے کہ مستقبل میں اگر آپ کو انفیکشن ہو جائے تو بیمار ہوئے بغیر کووڈ-19 سے کیسے لڑنا ہے۔

ویکسینز میں کیا اجزاء موجود ہیں؟

کووڈ-19 ویکسینز کے اجزاء عام ویکسینز جیسے ہی ہیں۔ ان میں mRNA کا فعال جز یا تبدیل شدہ ایڈیینو وائرس ہوتا ہے، اور دیگر اجزاء میں چکنائی، نمکیات اور شکر شامل ہوتے ہیں، جو کہ فعال جز کو محفوظ رکھتے ہیں، اسے جسم میں بہتر کاروائی کرنے کا موقع دیتے ہیں اور اسٹوریج اور آمدورفت کے دوران ویکسین کا تحفظ کرتے ہیں۔

Pfizer، Moderna اور Johnson and Johnson ویکسینز میں انسانی سیلز (بشمول جنین کے سیلز)، کووڈ-19 وائرس، لیٹکس، اجزاء کو محفوظ کرنے والے کیمیکلز یا سور کے گوشت کی مصنوعات یا جیلاٹن سمیت جانوروں کی کوئی ذیلی پراڈکٹس شامل نہیں۔ ان ویکسینز کو انڈوں میں نشونما نہیں دی جاتی اور ان میں انڈے کی کوئی پراڈکٹس شامل نہیں۔

اجزاء کے متعلق مزید معلومات کے لئے سوال جواب؛ فلاڈیلفیا میں بچوں کے ہسپتال کا ویب صفحہ (انگریزی) دیکھیے۔ آپ Pfizer (صرف انگریزی)، Moderna (صرف انگریزی) اور Johnson & Johnson (صرف انگریزی) کے حقائق کے صفحات میں مکمل اجزاء بھی دیکھ سکتے ہیں۔

کیا Johnson & Johnson ویکسین میں جنین کا ٹشو شامل ہے؟

Johnson & Johnson کووڈ1-9 ویکسین کو دیگر کئی ویکسین جیسی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے تیار کیا گیا تھا۔ اس میں جنین کے ٹکڑے یا جنین کے خلیے شامل نہیں۔ ویکسین کا ایک ٹکڑا خلیوں کی لیب میں تیار کردہ نقل سے بنا ہے، جبکہ اصل خلیے 35 سال سے زائد عرصہ قبل اختیاری طور پر حمل گرانے کے ذریعے حاصل کیے گئے تھے۔ تب سے ہی ان ویکسینز کے لئے لیب میں سیل لائنز برقرار رکھی گئی ہیں اور یہ ویکسینز بنانے کے لئے جنین کے سیلز کے کوئی مزید ذرائع استعمال نہیں کیے گئے۔ ممکن ہے کہ چند افراد کو یہ بات پہلے سے معلوم نہ ہو۔ لیکن خسرے، روبیلا اور ہیپاٹائٹس اے کی ویکسینز بھی اسی طریقے سے بنائی جاتی ہیں۔

کیا کووڈ-19 ویکسین بانجھ پن پیدا کرتی ہے؟

اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں کہ ویکسینز بانجھ پن یا مردانہ کمزوری پیدا کرتی ہے۔ جب آپ کے جسم میں ویکسین داخل ہوتی ہے تو یہ آپ کے مدافعتی نظام کے ساتھ مل کر کورونا وائرس سے لڑنے کے لئے اینٹی باڈیز بناتی ہے۔ یہ عمل آپ کے تولیدی اعضاء سے مداخلت نہیں کرتا۔

Centers for Disease Control and Prevention (CDC)، American College of Obstetricians and Gynecologists (ACOG) (انگریزی) اور Society for Maternal-Fetal Medicine (SMFM) (انگریزی) نے حاملہ، دودھ پلانے والی یا حاملہ ہونے کا ارادہ رکھنے والی خواتین کے لئے کووڈ-19 ویکسین کی تجویز دی ہے۔ کووڈ-19 کے خلاف ویکسین لگوانے والی کئی خواتین اس کے بعد حاملہ ہوئی ہیں اور انہوں نے صحت مند بچوں کو جنم دیا ہے۔

فی الحال کوئی ثبوت ظاہر نہیں کرتا کہ کووڈ-19 ویکسینز سمیت کوئی بھی ویکسین مردوں میں تولیدی مسائل پیدا کرتی ہے۔ mRNA کووڈ-19 ویکسین (یعنی Pfizer-BioNTech یا Moderna) ویکسین لگوانے والے 45 صحت مند مردوں پر کیے جانے والے حالیہ مختصر مطالعے میں ویکسینیشن سے پہلے اور بعد میں نطفے کی خصوصیات، جیسا کہ معیار اور حرکت پر نظر ڈالی گئی۔ محققین کو ویکسینیشن کے بعد نطفے میں کوئی خاص تبدیلیاں نہیں ملیں۔

صحت مند مردوں میں بیماری سے بخار ہونے کو نطفے کی پیداوار میں قلیل مدتی کمی سے منسلک کیا جاتا ہے۔ اگرچہ بخار کووڈ-19 ویکسینیشن کا عارضی ضمنی اثر ہو سکتا ہے، فی الوقت ایسا کوئی ثبوت دستیاب نہیں کہ کووڈ ویکسینیشن کے بعد ہونے والا بخار نطفے کی پیداوار پر اثر انداز ہوتا ہے۔

مزید معلومات کے لئے بچے کے خواہش مند افراد کے لئے کووڈ-19 ویکسین کے متعلق CDC کی معلومات (صرف انگریزی) دیکھیے۔ ویکسینز کے متعلق حقائق کے لئے آپ CDC کووڈ-19 ویکسین کا ویب صفحہ (صرف انگریزی) بھی دیکھ سکتے ہیں۔

ویکسنی لگوانے کے بعد کس قسم کی علامات نارمل ہیں؟

Pfizer/Comirnaty، Moderna/Spikevax اور Johnson & Johnson – Janssen کووڈ-19 ویکسینز

معمول کی دیگر ویکسینز کی طرح عام ترین ضمنی اثرات بازو میں درد، تھکاوٹ، سر درد اور پٹھوں کا درد ہیں۔

یہ علامات ظاہر کرتی ہیں کہ ویکسین کام کر رہی ہے۔ Pfizer اور Moderna کے ٹرائلز میں اکثر ویکسین لگوانے کے دو دن کے اندر اندر یہ ضمنی اثرات پیش آئے اور تقریبا ایک دن تک جاری رہے۔ پہلی خوراک کی نسبت دوسری خوراک کے بعد ضمنی اثرات زیادہ عام تھے۔ Johnson & Johnson کے کلینکل ٹرائلز میں ضمنی اثرات اوسطاً ایک سے دو دن تک موجود رہے۔

تینوں ویکسینز میں نوجوان افراد کی نسبت 55 سالہ یا زائد عمر کے افراد کا ضمنی اثرات کی اطلاع دینے کا امکان کم تھا۔

کلینکل ٹرائلز سے ظاہر ہوا کہ تقریباً:

Pfizer/Comirnaty

  • اسی فیصد افراد نے ٹیکہ لگانے کے مقام پر درد کی اطلاع دی
  • پچاس فیصد افراد نے تھکاوٹ اور سر درد کی اطلاع دی
  • تیس فیصد افراد نے پٹھوں میں درد کی اطلاع دی

Moderna/Spikevax

  • نوے فیصد افراد نے ٹیکہ لگانے کے مقام پر درد کی اطلاع دی
  • ستر فیصد افراد نے تھکاوٹ اور سر درد کی اطلاع دی
  • ساٹھ فیصد افراد نے پٹھوں میں درد کی اطلاع دی

Johnson & Johnson

  • ساٹھ فیصد افراد نے ٹیکہ لگانے کے مقام پر درد کی اطلاع دی
  • پینتالیس فیصد افراد نے تھکاوٹ اور سر درد کی اطلاع دی
  • چالیس فیصد افراد نے پٹھوں میں درد کی اطلاع دی

ممکن ہے کہ آپ آن لائن یا سوشل میڈیا پر غلط ضمنی اثرات کی افواہیں دیکھیں۔ ہر مرتبہ کسی ضمنی اثر کے متعلق دعوی دیکھنے پر اس دعوے کی تصدیق کرنا یقینی بنائیں۔

اگر کووڈ-19 ویکسین لگوانے کے بعد میں بیمار پڑ جاؤں تو کیا ہو گا؟

معمول کی دیگر ویکسینز کی طرح کووڈ-19 ویکسینیشن کے بھی عموماً ضمنی اثرات ہوتے ہیں، جیسا کہ ویکسین لگوانے کے بعد بازو میں درد، بخار، سر درد یا تھکاوٹ۔ یہ ویکسین کے کارآمد ہونے کی علامات ہیں۔

اگر ویکسین لگوانے کے بعد آپ میں علامات ظاہر ہوں تو ممکن ہے کہ آپ سوچنے لگیں کہ محفوظ طریقے سے ملازمت پر جانا یا اپنے کام انجام دینا ممکن ہے یا نہیں۔ ممکن ہے کہ ایمپلائرز سوچنے لگیں کہ عملے کے کسی رکن کا بحفاظت آمنے سامنے کام پر واپس آنا ممکن ہے یا نہیں۔ آپ کو مکمل تحفظ حاصل ہونے سے پہلے ویکسین کی سیریز مکمل کرنے میں تقریباً 2 ہفتے لگتے ہیں (Pfizer یا Moderna کی 2 خوراکیں یا Johnson & Johnson کی 1 خوراک) تو اگر اس سے پہلے آپ کا کووڈ-19 سے سامنا ہو جائے تو آپ کو انفیکشن ہو سکتا ہے۔ یہ یاد رکھنا بھی اہم ہے کہ ہر شخص کا مدافعتی نظام مختلف طریقے سے کام کرتا ہے اور ویکسین لگوانے والے تقریباً ہر 2,500 میں سے 1 فرد کے لئے ویکسین کارآمد نہیں ہو گی۔

یہ چارٹ (PDF) آپ کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ آیا آپ ویکسین پر ردعمل ظاہر کر رہے ہیں یا آپ کو کووڈ-19 کا ٹیسٹ کروانے اور علیحدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ میں درمیانے زمرے کی علامات ظاہر ہوئی ہیں تو ممکن ہے کہ آپ طبی نگہداشت وصول کرنا چاہیں یا کچھ انتظار کرنا چاہیں۔ اگر ایک دو دن میں آپ کی علامات ختم ہو جائیں تو امکان ہے کہ یہ ویکسین کا ردعمل ہو گا۔ اگر علامات جاری رہیں یا آپ کو ضرورت محسوس ہو تو طبی مشورہ حاصل کریں۔ اگر آپ کو کووڈ-19 لاحق ہونے یا اس سے سامنا ہونے کا امکان ہو تو براہ کرم احتیاطی تدبیر کے طور پر دوسروں سے محفوظ رہیں۔ اگر کووڈ-19 ویکسین لگوانے کے بعد آپ کو طبی ہنگامی صورتحال درپیش ہو جائے تو فوراً 1-1-9 کو کال کریں۔

اگر آپ ویکسین لگوانے کے بعد یمار ہو جائیں تو اس ناموافق واقعے کے متعلقVaccine Adverse Event Reporting System (ویکسین کے ناموافق واقعات کی اطلاع دینے کا سسٹم، VAERS) (صرف انگریزی) کو اطلاع دیں۔ "ناموافق واقعے" سے مراد ویکسینیشن کے بعد پیش آنے والا صحت کا مسئلہ یا ضمنی اثر ہے۔ VAERS کے متعلق مزید معلومات کے لئے ذیل میں "VAERS کیا ہے؟" دیکھیے

VAERS کیا ہے؟

VAERS ایک ابتدائی انتباہ کا نظام ہے جس کی سربراہی Centers for Disease Control and Prevention (CDC) اور Food and Drug Administration (FDA) کر رہے ہیں۔ VAERS ویکسین سے ممکنہ طور پر متعلقہ مسائل کی تشخیص میں مدد دے سکتا ہے۔

کوئی بھی (طبی معالج، مریض، نگہداشت کنندہ) VAERS میں ممکنہ ناموفق ردعمل کی اطلاع (صرف انگریزی) دے سکتا ہے۔

نظام کی کچھ حدود ہیں۔ VAERS پر دی جانے والی اطلاع کا مطلب یہ نہیں کہ ویکسین سے ردعمل یا نتیجہ پیدا ہوا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس سے پہلے ویکسینیشن ہوئی تھی۔

VAERS کو اس طرح سیٹ کیا گیا ہے کہ سائنس داروں کو رجحانات نوٹ کرنے میں مدد ملے یہ کسی ممکنہ مسئلے پر تفتیش کرنے کی وجہ ملے۔ یہ ویکسینیشن کے تصدیق شدہ نتائج کی فہرست نہیں ہے۔

جب آپ VAERS میں اطلاع دیتے ہیں تو آپ CDC اور FDA کو ممکنہ طبی خدشات کی شناخت کرنے اور ویکسینز کا تحفظ یقینی بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ اگر کوئی مسائل پیدا ہوں تو وہ کاروائی کریں گے اور طبی معالجین کو ممکنہ مسائل سے آگاہ کریں گے۔

اگر مجھے کووڈ-19 ہو چکا ہے تو کیا مجھے کووڈ-19 ویکسین مل سکتی ہے؟

جی ہاں، ACIP کی تجویز ہے کہ ہر وہ شخص ویکسین لگوائے جسے کووڈ-19 ہو چکا ہے۔

ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ انفیکشن ہونے کے 90 دن بعد تک کووڈ-19 سے دوبارہ متاثر ہونا عام نہیں ہے، تو ممکن ہے کہ آپ کو کچھ تحفظ حاصل ہو (جسے فطرتی مامونیت کہتے ہیں)۔ لیکن ہمیں معلوم نہیں کہ فطرتی مامونیت کی کل مدت کیا ہے۔

جن افراد کو اس وقت کووڈ-19 ہے، انہیں ویکسین لگوانے سے پہلے اپنی طبیعت ٹھیک ہونے اور علیحدگی کی مدت کے خاتمے کا انتظار کرنا چاہیے۔

جن افراد کا حال میں کووڈ-19 سے سامنا ہوا ہو، انہیں بھی ویکسین لگوانے کے لئے قرنطینہ کی مدت کے خاتمے کا انتظار کرنا چاہیے، اگر وہ محفوظ طریقے سے خود کو لوگوں سے دور قرنطینہ کر سکتے ہوں۔ اگر ان کے دوسروں کو متاثر کرنے کا خطرہ زیادہ ہو تو مرض کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لئے انہیں ان کے قرنطینہ کی مدت کے دوران ویکسین دی جا سکتی ہے۔

علیحدگی اور قرنطینہ کے لئے مخصوص رہنمائی کی دستاویزات کے لئے براہ کرم ہمارے کووڈ-19 کے وسائل اور تجاویز کے ویب صفحے (صرف انگریزی) کا قرنطینہ اور علیحدگی کا ٹیب ملاحظہ کریں۔

اگر مجھے ماضی میں کسی ویکسین سے الرجک ردعمل ہوا ہے تو کیا میں کووڈ-19 ویکسین لگوا سکتا/سکتی ہوں؟

کسی mRNA یا وائرل ویکٹر ویکسن کی سابقہ خوراک یا  Pfizer-BioNTech/Comirnaty(صرف انگریزی)، Spikevax/Moderna (صرف انگریزی)، یا Johnson & Johnson–Janssen (صرف انگریزی) کووڈ-19 ویکسینز کے کسی جز سے شدید الرجک ردعمل، جیسا کہ اینافلیکسز، کی ہسٹری رکھنے والے افراد کو ویکسین نہیں دی جانی چاہیے۔

جن افراد کو دیگر ویکسینز یا ٹیکے کے ذریعے کیے جانے والے علاج سے شدید الرجک ردعمل ہو چکا ہے، وہ پھر بھی ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ تاہم معالجین کو خطرے کا تجزیہ کرنا چاہیے اور انہیں ممکنہ خطرات کے متعلق مشورہ دینا چاہیے۔ اگر مریض ویکسین لگوانے کا فیصلہ کرے تو معالج اگلے 30 منٹ تک فوری ردعمل کی نگرانی کے لئے اس کا مشاہدہ کرے گا۔

Advisory Committee on Immunization Practices (ACIP) کی تجویز ہے کہ معالجین تمام مریضوں کو ویکسین لگانے کے بعد کم از کم 15 منٹ تک الرجک ردعمل کے لئے ان کی نگرانی کریں۔ مزید معلومات کے لئے ACIP کی mRNA ویکسینز کے لئے عارضی کلینکل زیر غور تصورات دیکھیے۔

ویکسین کے تقاضے

کیا کووڈ-19 ویکسین لگوانا ضروری ہے؟

کووڈ-19 ویکسین لگوانا یا نہ لگوانا آپ کا اپنا فیصلہ ہے لیکن ممکن ہے کہ چند ایمپلائرز، کالجز اور یونیورسٹیز اس کا تقاضا کریں۔

فی الحال واشنگٹن میں درج ذیل کے لئے کووڈ-19 ویکسین لگوانے کی ضرورت ہے:

ان ملازمین سے درکار ہے کہ 18 اکتوبر 2021 تک کووڈ-19 کے خلاف مکمل ویکسینیشن کروائیں (ویکسین سیریز مکمل کیے ہوئے کم از کم دو ہفتے گزر چکے ہوں)۔ اس طرح کے ماحول میں کام کرنے والے ٹھیکے دار، رضاکاران اور دیگر عہدے دار اس تقاضے میں شامل ہیں۔

اگر آپ ان میں سے کسی گروپ کا حصہ ہیں یا آپ کا ایمپلائر یا اسکول کووڈ-19 ویکسینیشن کا تقاضا کر رہا ہے تو اپنے انسانی وسائل کے شعبے، ایمپلائر یا اسکول سے بات کر کے جانیں کہ کیا کرنا چاہیے۔ محکمۂ صحت ایمپلائر یا کالج/یونیورسٹی کی پالیسی میں شامل نہیں۔

ویکسین آپ کو اور آپ کے گرد موجود دیگر افراد کو کووڈ-19 لگنے سے بچانے میں مدد دیتی ہے، اور ہم آپ کو ترغیب دیتے ہیں کہ اس کے فوائد کے متعلق اپنے ڈاکٹر یا کلینک سے بات کریں

کیا میرے بچے کو K-12 اسکول یا چائلڈ کیئر میں جانے کے لئے کووڈ-19 ویکسین لگوانے کی ضرورت ہے؟

جی نہیں، فی الحال واشنگٹن میں بچوں کو K-12 اسکول یا چائلڈ کیئر جانے کے لئے کووڈ-19 ویکسین لگوانے کی ضرورت نہیں ہے۔ حالیہ تقاضوں کے متعلق مزید معلومات کے لئے ہمارا مامونیت کا صفحہ (انگریزی) دیکھیے۔

اگر آپ کے بچے کو کووڈ-19 کی ویکسین نہیں لگی تو آپ کو استثنی کا سرٹیفیکیٹ لینے کی ضرورت نہیں کیوں کہ ویکسین کی ضرورت نہیں ہے۔ Washington State Board of Health (ریاست واشنگٹن کا بورڈ برائے صحت) تعین کرتا ہے کہ اسکول اور چائلڈ کیئر کے لئے کن ویکسینز کی ضرورت ہے۔

K-12 ملازمین کے لئے کووڈ-19 ویکسین کا کیا تقاضا ہے؟

18 اگست 2021 کو گورنر Inslee نے ایک ہدایت کا اعلان کیا جس میں 18 اکتوبر 2021 تک تمام سرکاری اور نجی K–12 اسکولوں کے ملازمین سے کووڈ-19 کے خلاف مکمل ویکسینیشن کروانے یا مذہبی یا طبی استثنی حاصل کرنے کا تقاضا کیا گیا ہے۔

یہ آرڈر تعلیمی ماحول میں کام کرنے والے تمام ملازمین (صرف انگریزی) پر لاگو ہوتا ہے، بشمول:

  • نجی K-12 اسکولز، سرکاری K-12 اسکول ڈسٹرکٹس، چارٹر اسکولز اور تعلیمی سروس کے ڈسٹرکٹس میں کام کرنے والے ملازمین اور ٹھیکے دار (یہ حکم ریاستی قبائلی تعلیم کے چھوٹے اسکولوں یا طلبہ پر لاگو نہیں ہوتا)،
  • بچوں کی نگہداشت اور ابتدائی تعلیم فراہم کرنے والے جو کئی گھرانوں میں بچوں کو پڑھاتے ہیں، اور
  • اعلی تعلیم کے ملازمین۔

مزید معلومات کے لئے K-12 اسکولوں کے ملازمین کے لئے کووڈ-19 ویکسینیشن کا تقاضا: عمومی سوالات (PDF) (انگریزی) (دفتر برائے سرکاری تعلیم کا سپرانٹنڈنٹ) دیکھیے۔

میں ویکسین کے تقاضوں سے استثنی کیسے حاصل کر سکتا/سکتی ہوں؟

اگر آپ کے ایمپلائر یا کالج/یونیورسٹی نے کووڈ-19 ویکسین کا تقاضا کیا ہے یا گورنر Jay Inslee کے 9 اگست کے اعلامیے (انگریزی) یا 18 اگست کے اعلامیے (انگریزی) کے مطابق آپ کے لئے ویکسین لگوانا ضروری ہے تو آپ کو چاہیے کہ اپنے ایمپلائر یا کالج/یونیورسٹی سے رابطہ کر کے جانیں کہ وہ ویکسینیشن کا ثبوت کیسے حاصل کرتے ہیں، آیا ان کی کوئی ویکسینیشن نہ کروانے کی پالیسی ہے اور آپ کو ویکسینیشن نہ کروانے کے لئے کیا کرنا ہو گا۔ محکمۂ صحت ایمپلائر یا کالج/یونیورسٹی کی پالیسی میں شامل نہیں۔

آپ کو Department of Health (محکمۂ صحت، DOH) سے کووڈ-19 ویکسین کے لئے استثنی کا فارم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔ DOH کے پاس کووڈ-19 ویکسین سے استثنی کے فارم نہیں ہیں۔ ریاست واشنگٹن کا Certificate of Exemption (استثنی کا سرٹیفیکیٹ، COE) صرف ان والدین/سرپرستوں کے لئے ہے جو اپنے بچے کو K-12 اسکولز، پری اسکولز یا چائلڈ کیئر میں بچوں کے لئے درکار مامونیت سے استثنی دلانا چاہتے ہیں۔ قی الحال واشنگٹن میں بچوں کو اسکول یا چائلڈ کیئر جانے کے لئے کووڈ-19 ویکسین لگوانے کی ضرورت نہیں ہے، اس لئے یہ COE میں شامل نہیں۔

اسکول اور چائلڈ کیئر

کیا 18 سال سے کم عمر افراد ویکسین لگوا سکتے ہیں؟

جی ہاں۔ 5 سال اور زائد عمر کے نوجوان افراد Pfizer-BioNTech ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ 17 سال سے کم عمر نوجوانوں کو ویکسین لگوانے کے لئے والد/والدہ یا سرپرست کی اجازت کی ضرورت ہو سکتی ہے (صرف انگریزی) ماسوائے یہ کہ وہ قانونی طور پر علیحدہ ہو چکے ہوں۔ مزید معلومات کے لئے ہمارے ویب صفحے Vaccinating Youth (نوجوانوں کی ویکسینیشن) پر جائیں۔

ویکسین کے کلینک سے والدین کی اجازت یا قانونی علیحدگی کا ثبوت دکھانے کے تقاضوں کے متعلق پوچھیں۔

کیا ریاست K-12 اسکولوں میں داخلے کے لئے کووڈ-19 ویکسینیشن کا تقاضا کرے گی؟

K-12 اسکولوں میں بچوں کے لئے مامونیت کے تقاضے تخلیق کرنے کی اتھارٹی State Board of Health (ریاستی بورڈ برائے صحت) کو حاصل ہے، Department of Health کو نہیں Revised Code of Washington (RCW، واشنگٹن کا نظر ثانی شدہ کوڈ) 28A.210.140

بورڈ ریاستی Department of Health کے تعاون کے ساتھ Technical Advisory Group (تکنیکی مشاورتی گروپ) کا انتظام کر رہا ہے۔ مشاورتی گروپ اس متعلق بات کرے گا کہ آیا کووڈ-19 ویکسین کو بورڈ کے معیار کے خلاف سمجھا جانا چاہیے یا نہیں اور آیا اسے ریاستی سطح پر اسکول میں داخلے کے لئے درکار حفاظتی ٹیکوں کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز کی جانی چاہیے یا نہیں۔ بورڈ جنوری 2022 کی عوامی میٹنگ میں مشاورتی گروپ کی پیشرفت کے متعلق معلومات فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،

کیا میرا بچہ کووڈ-19 ویکسینیشن کرواتے ہوئے دیگر مامونیت بھی کروا سکتا ہے؟

اب لوگ دیگر ویکسینز لگوانے کے بعد 14 دن کے اندر اندر کووڈ-19 ویکسین لگوا سکتے ہیں، یہاں تک کہ اسی دن بھی۔

کیا کووڈ-19 وبا کے باعث اسکول کے سال 2021-2022 میں اسکولوں کے مامونیت کے تقاضوں میں لچک کا مظاہرہ کیا جائے گا؟

ریاستی بورڈ برائے صحت تعین کرتا ہے کہ آیا اسکولوں کے مامونیت کے تقاضوں میں کوئی تبدیلیاں کی جانی چاہئیں۔ فی الوقت اسکولوں میں مامونیت کے تقاضے وہی رہیں گے۔ بچوں کے لئے لازمی ہو گا کہ اسکول کے پہلے دن حاضری سے پہلے ویکسینیشن کے تقاضے مکمل کریں۔

ویکسین کے بعد کی زندگی

مکمل ویکسین یافتہ سے کیا مراد ہے؟

دوخوراکوں والی ویکسین (Pfizer-BioNTech یا Moderna) کے دوسرے ٹیکے کے دو ہفتے بعد یا ایک خوراک والی ویکسین (Johnson and Johnson (J&J)/Janssen) لگوانے کے دو ہفے بعد آپ کو کووڈ-19 کے خلاف مکمل ویکسین یافتہ تصور کیا جاتا ہے۔

اب میں مکمل ویکسین یافتہ ہوں تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟

مکمل ویکسین یافتہ ہونے کے بعد:

مزید معلومات کے لئےیہ ویڈیو دیکھیں: کووڈ-19 ویکسین لگوانے کے بعد کیا توقع رکھی جائے۔

اگر میں کووڈ-19 کے خلاف مکمل ویکسین یافتہ ہوں تو کیا مجھے پھر بھی احتیاط کرنی ہو گی؟

جی ہاں۔ خواہ آپ مکمل ویکسین یافتہ ہوں، آپ کو اندرون عمارت عوامی مقامات پر ماسک پہننا چاہیے۔ کووڈ-19 ویکسینز کارآمد ہیں لیکن 100 فیصد مؤثر نہیں۔ چند افراد کو ویکسین لگوانے کے بعد بھی کووڈ-19 ہو سکتا ہے۔ قابل منتقلی متغیر اشکال میں اضافے کے باعث یہ اہم ہے کہ تمام افراد ماسک پہننے جیسی احتیاطیں کریں تاکہ وائرس کی منتقلی کو گھٹایا جا سکے۔

مکمل ویکسین یافتہ ہونے کے بعد بھی آپ کو چاہیے کہ:

براہ کرم چہرہ ڈھانپنے اور ماسک کی رہنمائی کے عمومی سوالات کا صفحہ (صرف انگریزی) دیکھیے۔ کووڈ-19 کے ٹیسٹ کی معلومات یا مخصوص رہنما دستاویزات کے لئے براہ کرم ٹیسٹ کروانے کی معلومات (PDF) (صرف انگریزی) دیکھیے۔

کیا مجھے پھر بھی عوامی مقامات پر ماسک پہننا ہو گا؟

تمام اندرون عمارت عوامی مقامات پر 2 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کے لئے ماسک پہننا ضروری ہے۔

ضروری ہے کہ غیر ویکسین یافتہ یا جزوی طور پر ویکسین یافتہ افراد تمام عوامی مقامات پر ماسک پہننا اور 6 فٹ (2 میٹر) کا فاصلہ رکھنا جاری رکھیں۔

اگر میرا کووڈ-19 سے سامنا ہو جائے اور میں مکمل ویکسین یافتہ ہوں تو کیا مجھے قرنطینہ اختیار کرنے کی ضرورت ہو گی؟

جی نیں، اگر آپ مکمل ویکسین یافتہ ہیں تو آپ کو کووڈ-19 میں مبتلا کسی فرد سے سامنا ہونے کے بعد قرنطینہ اختیار کرنے یا ٹیسٹ کروانے کی ضرورت نہیں، بشرطیکہ آپ بیماری کی کوئی علامت ظاہر نہ کریں۔ تاہم آپ کو پھر بھی سامنا ہونے کے بعد 14 دن تک خود میں ظاہر ہونے والی کووڈ-19 کی علامات پر نظر رکھنی چاہیے۔

اگر آپ میں علامات ظاہر ہونے لگیں تو علیحدگی اختیار کریں اور اپنے طبی معالج سے رابطہ کریں۔ ٹیسٹ یا معائنے کی درخواست کرنے سے پہلے انہیں بتائیں کہ آپ ویکسین لگوا چکے ہیں۔

کیا مختلف گھرانوں کے ویکسین یافتہ اور غیر ویکسین یافتہ افراد ایک دوسرے سے ملاقات کر سکتے ہیں؟

یہ منحصر ہے۔ اگر ان گھرانوں میں سے ایک میں ایسے افراد موجود ہیں جنہیں شدید کووڈ-19 مرض کا زیادہ خطرہ (صرف انگریزی) لاحق ہے تو آپ کو بیرون عمارت ملنا چاہیے یا اندرون عمارت مل کر کھڑکیاں کھلی رکھنی چاہئیں، اچھی فٹنگ والا ماسک پہننا چاہیے اور جسمانی فاصلہ برقرار رکھنا چاہیے (کم از کم 6 فٹ / 2 میٹر)۔

اگر کسی بھی گھرانے میں زیادہ خطرے میں مبتلا افراد نہ ہوں تو بیرون عمارت یا بغیر ماسک پہنے اندرون عمارت ملاقات کرنے سے کووڈ-19 پھیلنے کا خطرہ کم ہو گا۔

اگر میرے گھرانے کے چند افراد مکمل ویکسین یافتہ ہیں اور چند نہیں تو کیا ہو گا؟

اگر آپ کے گھرانے کے صرف چند افراد مکمل ویکسین یافتہ ہیں تو آپ کو ایسے احتیاط کرنی چاہیے جیسے آپ کا گھرانہ غیر ویکسین یافتہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ديگر جزوی یا غیر ویکسین یافتہ گھرانوں کے افراد سے ملاقات کرتے ہوئے آپ کو ماسک پہننے چاہئیں اور 6 فٹ (2 میٹر) کا فاصلہ رکھنا چاہیے اور ممکن ہو تو ایسے مجمعوں سے گریز کرنا چاہیے۔

آپ ایک وقت میں ایک مکمل ویکسین یافتہ گذرانے کے افراد سے ملاقات کر سکتے ہیں، بشرطیکہ آپ کے گھرانے میں کسی کو کووڈ-19 سے شدید بیماری کا خطرہ لاحق نہ ہو۔

اگر کسی بڑے گروہ میں سب ویکسین یافتہ ہوں تو کیا میں ان سے مل سکتا/سکتی ہوں؟

مکمل ویکسین یافتہ افراد کے مجمعے ممکنہ طور پر محفوظ ہوتے ہیں۔ DOH کی پرزور تجویز ہے کہ ویکسینیشن کی حیثیت سے بالاتر ہو کر تمام افراد پرہجوم بیرون عمارت ماحول میں چہرہ ڈھانپیں، جبکہ اپنے گھرانے کے علاوہ دوسروں سے مناسب فاصلہ رکھنا ممکن نہ ہو۔ 500 یا زائد افراد والی بیرون عمارت تقریبات یا مجعموں میں چہرہ ڈھانپنا ضروری ہے۔

اگر اندرون عمارت عوامی مقام پر مجمع ہے تو ویکسینیشن کی حیثیت سے بالاتر ہو کر 5 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو ماسک پہننا چاہیے۔ جو بچے دو سال سے کم عمر ہیں انہیں دم گھٹنے کے خطرے کے پیش نظر چہرہ نہیں ڈھانپنا چاہیے۔ دو، تین یا چار سال کے بچوں کے لئے پرزور تجویز دی جاتی ہے کہ وہ کسی بالغ فرد کی مدد سے اور اس کے زیر نگرانی عوامی مقامات پر تمام وقت چہرہ ڈھانپیں، جب وہ اپنے گھرانے کے علاوہ دیگر افراد کے نزدیک ہوں۔

کیا میں ویکسین لگوانے کے بعد عوامی سرگرمیاں، جیسے کسی ریستوران پر کھانا کھانا، جاری رکھ سکتا/سکتی ہوں؟

مکمل ویکسین یافتہ افراد کے لئے عوامی سماجی سرگرمیوں، جیسے کسی ریستوران میں اندرون عمارت کھانا کھانے یا جم جانے کے دوران کووڈ-19 انفیکشن کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ چند مقامات پر مکمل ویکسین یافتہ افراد ماسکس یا جسمانی فاصلے کے بغیر ملاقات کر سکتے ہیں۔ DOH ویکسینیشن کی حیثیت سے بالاتر ہو کر پرہجوم مقامات یا بڑے مجمعوں میں تمام افراد کے لئے ماسک کی تجویز دیتا ہے اور اندرون عمارت مقامات پر 5 سال سے زائڈ عمر کے تمام افراد کے لئے ماسک پہننا لازمی ہے۔

غیر ویکسین یافتہ یا جزوی طور پر ویکسین یافتہ افراد کو چاہیے کہ تمام عوامی مقامات پر یا ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہوئے ماسک پہننا اور چھ فٹ (دو میٹر) کا فاصلہ رکھنا جاری رکھیں۔

کیا مجھے ویکسینیشن کا ثبوت دکھانا ہو گا؟

چند کاؤنٹیز میں مخصوص اداروں تک رسائی کے لئے ویکسینیشن کا ثبوت دکھانے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ مزید جاننے کے لئے اپنی کاؤنٹی کے محکمۂ صحت سے بات کریں۔

چند کاروبار آپ سے ویکسینیشن کا ثبوت دکھانے کا تقاضا کرتے ہیں اور کئی کاروبار ویکسین یافتہ افراد کو فوائد کی پیش کش کرتے ہیں۔ چند کاؤنٹیز میں مخصوص اداروں تک رسائی کے لئے بھی ویکسینیشن کے ثبوت کا تقاضا کیا جا سکتا ہے۔ مزید جاننے کے لئے اپنی کاؤنٹی کے محکمۂ صحت سے بات کریں۔

تو اپنے ویکسینیشن کے کاغذی کارڈ کو پیدائش کے سرٹیفیکیٹ یا دیگر سرکاری دستاویزات کی طرح l رکھیں! اس کی تصویر لے کر اسے گھر پر رکھیں۔ ویکسینیشن کارڈز اور مامونیت کے ریکارڈز کے متعلق مزید پڑھیں۔

اگر میں جزوی طور پر ویکسین یافتہ ہوں تو کیا ہو گا؟

دو خواکوں والی ویکسینز (Pfizer-BioNTech یا Moderna) کی صورت میں اگر آپ نے صرف ایک خوراک لی ہو یا دوسری خوراک کے بعد دو ہفتے نہ گزرے ہوں تو آپ کو "جزوی طور پر ویکسین یافتہ" سمجھا جائے گا۔ ایک خوراک والی ویکسین (Johnson and Johnson (J&J)/Janssen) کی صورت میں اگر آپ کے ٹیکے کے بعد دو ہفتے نہ گزرے ہوں تو آپ کو "جزوی طور پر ویکسین یافتہ" سمجھا جائے گا۔

مکمل ویکسین یافتہ ہونے کا انتظار کرتے ہوئے آپ کو ایسے ہی احتیاطی تدابیر سے کام لینا چاہیے جیسے آپ غیر ویکسین یافتہ ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آت کو درج ذیل کام کرنے چاہئیں:

کیا میں ویکسین لگوانے کے باوجود کووڈ-19 سے بیمار ہو سکتا/سکتی ہوں؟

اس کا بہت کم امکان ہے۔ ویکسینز بہت مؤثر ہیں لیکن 100 فیصد نہیں۔ اگر آپ میں کووڈ-19 جیسی علامات (صرف انگریزی) ظاہر ہوں تو آپ کو دوسروں سے دور رہنا چاہیے اور کسی طبی معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔ ممکن ہے کہ وہ کووڈ-19 کی تجویز دیں۔

کووڈ-19 کے ٹیسٹ کی معلومات کے لئے براہ کرم ٹیسٹ کروانے کی معلومات دیکھیں۔

کیا میں ویکسین لگوانے کے باوجود کووڈ-19 پھیلا سکتا/سکتی ہوں؟

متغیر اشکال کے ساتھ بھی مکمل ویکسین یافتہ افراد کی تھوڑی سے تعداد کو ہی انفیکشن ہوتا ہے۔ تاہم ابتدائی ثبوت سے ظاہر ہوتا ہے (صرف انگریزی) کہ کووڈ-19 سے متاثرہ مکمل ویکسین یافتہ افراد دوسروں میں وائرس پھیلا سکتے ہیں۔

میں کووڈ-19 کے دوران ذہنی دباؤ اور گھبراہٹ کا کیا علاج کروں؟

ہم سمجھتے ہیں کہ وبا آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ آپ تنہا نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں کئی افراد مالی اور ملازمتی پریشانیوں، اسکول بند ہونے، سماجی علیحدگی، صحت کے خدشات، افسوس اور تکلیف وغیرہ کے باعث ذہنی تناؤ اور گھبراہٹ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس میں وہ اضافی گھبراہٹ بھی شامل ہے جو عوامی سرگرمیوں کی جانب لوٹنے سے متعلق ہو سکتی ہے۔

درج ذیل وسائل آپ کو ذہنی دباؤ اور گھبراہٹ پر قابو پانے میں مدد دے سکتے ہیں:

ویکسین بوسٹرز اور اضافی خوراکیں

کووڈ-19 کی اضافی خوراک اور بوسٹر میں کیا فرق ہے؟

اضافی خوراک (جیسے تیسری خوراک بھی کہا جاتا ہے) کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد کے لئے ہے۔ کبھی کبھار کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد پہلی مرتبہ مکمل ویکسین یافتہ ہونے پر کافی تحفظ پیدا نہیں کر پاتے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو ویکسین کی ایک اور خوراک سے انہیں مرض کے خلاف مزید تحفظ پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔

بوسٹر سے مراد ویکسین کی خوراک ہے جو کسی ایسے شخص کو دی جاتی ہے جس نے ویکسینیشن کے بعد کافی تحفظ حاصل کر لیا ہو لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ وہ تحفظ کم ہو گیا ہو (اسے زائل ہوتی ہوئی مامونیت کہتے ہیں)۔ اسی وجہ سے آپ کو ہر 10 سال بعد ٹیٹنس کا بوسٹر لگایا جاتا ہے کیوں کہ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کو بچپن میں لگائی جانے والی ٹیٹنس ویکسین کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔

کسے کووڈ-19 ویکسین کی اضافی خوراک لینی چاہیے؟

U.S. Food and Drug Administration (FDA)، Advisory Committee on Immunizations Practices (ACIP، مشاورتی کمیٹی برائے مامونی طریقہ کار) اور Western States Scientific Safety Review Workgroup (مغربی ریاستوں کا سائنسی تحفظ کا ورک گروپ) کی تجویز ہے کہ معتدل تا شدید حد تک کمزور مدافعتی نظام کے حامل (صرف انگریزی) 18 سال اور زائد عمر کے افراد ویکسین کی تیسری خوراک لگوائیں۔ ویکسین کی اضافی خوراکیں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

اگر آپ کو درج ذیل میں سے کوئی طبی کیفیت لاحق ہے تو آپ کو معتدل تا شدید حد تک کمزور مدافعتی نظام کا حامل سمجھا جائے گا اور کووڈ-19 ویکسین کی اضافی خوراک آپ کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ اس میں ایسے افراد شامل ہیں جو:

  • رسولیوں یا خون کے کینسر کے باعث کینسر کا فعال علاج کروا رہے ہیں
  • کسی عضو کا ٹرانسپلانٹ کروا چکے ہیں اور مدافعتی نظام کو بٹھانے کے لئے دوا لے رہے ہیں
  • پچھلے 2 سالوں میں اسٹیم سیل کا ٹرانسپلانٹ کروا چکے ہیں یا مدافعتی نظام کو بٹھانے کے لئے دوا لے رہے ہیں
  • معتدل تا شدید مدافعتی کمزوری کے حامل ہیں (جیسا کہ DiGeorge سنڈروم، Wiskott-Aldrich سنڈروم)
  • ایڈوانسڈ یا غیر علاج یافتہ HIV انفیکشن میں مبتلا ہیں
  • کارٹیسٹرائڈز یا مدافعتی ردعمل گھٹانے والی دیگر ادویات کی بڑی خوراک والا فعال علاج کروا رہے ہیں۔

اگرچہ ہمارے پاس موجود ویکسینز وائرس کی اکثر متغیر اشکال کے خلاف 90 فیصد مؤثر ہیں، تحقیقات سے ظاہر ہوا کہ کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد ہمیشہ مضبوط مدافعت پیدا نہیں کر پاتے۔ تیسری خوراک کو بوسٹر نہیں سمجھا جاتا بلکہ دو خوراکوں سے سیریز میں مناسب مقدار میں مدافعت نہ پیدا کرنے والوں کے لئے اضافی خوراک سمجھا جاتا ہے۔

اگر آپ کو mRNA ویکسین (Moderna یا Pfizer) لگی ہے اور آپ معتدل تا شدید حد تک کمزور مدافعتی نظام کے حامل ہیں تو:

  • آپ کو چاہیے کہ دوسری خوراک کے کم از کم 28 دن بعد اضافی خوراک لگوائیں۔
  • اگر ممکن ہو تو آپ کو پہلی دو خوراکوں کے برانڈ کی ویکسین ہی لگوانی چاہیے۔ اگر وہ برانڈ دستیاب نہ ہو تو آپ دیگر mRNA ویکسین برانڈ لے سکتے ہیں۔
  • آپ اپنی تیسری mRNA ویکسین مکمل کرنے کے بعد واحد کووڈ-19 بوسٹر خوراک (Pfizer-BioNTech, Moderna یا Janssen) بھی لگوا سکتے ہیں۔ آپ کی بوسٹر خوراک Pfizer کی تیسری خوراک کے 3 ماہ بعد یا Moderna کی تیسری خوراک کے 3 ماہ بعد ہونی چاہیے۔ ایسی صورت میں معتدل تا شدید حد تک کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد کو کووڈ-19 ویکسین کی کل چار خوراکیں ملیں گی۔

اگر آپ نے Johnson & Johnson (Janssen) ویکسین لگوائی تھی اور معتدل تا شدید حد تک کمزور مدافعتی نظام کے حامل ہیں تو:

  • آپ کو Janssen کی ابتدائی پرائمری خوراک کے کم از کم 2 ماہ (8 ہفتے) بعد کووڈ-19 کی واحد بوسٹر خوراک (Pfizer-BioNTech, Moderna یا Janssen) لگوانی چاہیے۔
  • Janssen کووڈ-19 ویکسین کی ایک پرائمری خوراک لگوانے والے شخص کو کووڈ-19 ویکسین کی دو سے زائد خوراکیں نہیں دی جانی چاہئیں۔

اگر اس متعلق آپ کے سوالات ہیں کہ آیا آپ کو اپنی طبی کیفیت کی بنیاد پر ایک اور خوراک کی ضرورت ہے یا نہیں تو براہ کرم اپنے طبی معالج سے رابطہ کریں۔

بوسٹر خوراکیں کیوں اہم ہیں؟

بوسٹر خوراکیں شدید کووڈ-19 کے زیادہ خطرے میں مبتلا افراد کو شدید بیماری سے جاری تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ 12 سال اور زائد عمر کے تمام افراد کے لئے بوسٹر خوراکوں کی تجویز دی جاتی ہے تاکہ کووڈ-19 مرض کے خلاف تحفظ میں اضافہ ہو سکے۔ ریاست ہائے متحدہ بھر میں مزید پھیلنے والی متغیر اشکال کے پھیلاؤ اور کووڈ-19 کیس بڑھنے کے باعث یہ اہم ہے۔

ریاست ہائے متحدہ میں اجازت دی گئی یا منظور کی گئی کووڈ-19 ویکسینز کووڈ-19 اور متغیر اشکال کے خلاف بھی شدید بیماری، ہسپتال میں داخلے اور موت کا خطرہ گھٹانے میں بےحد کارآمد ہیں۔ پھر بھی ممکن ہے کہ کچھ ویکسینز کا تحفظ وقت کے ساتھ کم ہو جائے۔ بوسٹر خوراکیں کووڈ-19 سے تحفظ کو مزید جاری رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ مزید معلومات کے لئے بوسٹر خوراک کا صفحہ دیکھیے۔

اضافی وسائل اور معلومات

مخصوص گروہوں کے لئے کووڈ-19 وسائل

بچے اور نوجوان

دودھ پلانے والی اور/یا حاملہ خواتین

تارکین وطن اور مہاجرین

گھر میں رہنے کے پابند

ویکسین کے متعلق انصاف اور دلچسپی کے صفحے (صرف انگریزی) پر کمیونٹیز کے لئے مخصوص اضافی وسائل دیکھے جا سکتے ہیں۔

یہاں میرے سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔ میں مزید معلومات کیسے حاصل کروں؟

عمومی سوالات covid.vaccine@doh.wa.gov کو بھیجے جا سکتے ہیں۔